ماڈیول ۴ سبق ٥۔ روزانہ کی مصروفیت آئیے ایک مثال پر نظر ڈالتے ہیں شیریں کو ڈیمینشیا ہے اور وہ صبح میں تیار ہونے کے فوراً بعد چائے پینے کی عادی ہیں۔ ان کی بیٹی اسما اپنی ماں کو ہر روز سیر کرنے کی ترغیب دینا چاہتی ہے، جیسے کہ ڈاکٹر نے تجویز کی ہے۔ اسما اپنی ماں کے عام معمول سے واقف نہیں ہے، لہذا جب وہ ناشتے کے بعد ہی شیریں کوسیر کے لیے لے جانے کی کوشش کرتی ہے تو شیریں انکار کر دیتی ہیں۔ اپنی سمجھ بوجھ چیک کریںصبح کے معمولات۔ آپ کے پاس اسما کے لیے کیا تجاویز ہیں؟ برائے مہربانی نیچے دیے گئے جوابات میں سے درست جواب چننیں۔ اسما کو چاہیے کہ شیریں کو سیر کے لیے جانے پر مجبور کرے کیونکہ اس کا مشورہ ڈاکٹر نے دیا تھا۔اسما کو شیریں سے پوچھنا چاہیے کہ وہ کن سرگرمیوں کی عادی ہیں اور انہیں کس ترتیب میں کرنا چاہیں گی۔اگر اسما پہلے چائے پینے کے بعد معمول برقرار رکھنے کی تجویز کرتی ہے تو امکان ہے کہ شیریں اس کے بعدسیر پر جائیں گی۔صحیح جواب دکھائیں اسما کو چاہیے کہ شیریں کو سیر کے لیے جانے پر مجبور کرے کیونکہ اس کا مشورہ ڈاکٹر نے دیا تھا۔ یہ جواب اتنا اچھا نہیں ہے کیونکہ یہ چیز شیریں کو پریشان اور ناراض کرسکتی ہے۔ اسما کو شیریں سے پوچھنا چاہیے کہ وہ کن سرگرمیوں کی عادی ہیں اور انہیں کس ترتیب میں کرنا چاہیں گی۔ واقعی! اسما شیریں کے معمولات جان سکتی ہے۔ تاہم، یہ صرف تبھی ہو سکتا ہے جب شیریں ڈیمینشیا کے شروعاتی یا درمیانی مراحل میں ہوں۔ آگے چل کر، ممکن ہے شیریں اپنے معمولات یاد رکھنےکے قبل نہ ہوں۔ اگر اسما پہلے چائے پینے کے بعد معمول برقرار رکھنے کی تجویز کرتی ہے تو امکان ہے کہ شیریں اس کے بعد سیر جائیں گی۔ صحیح! اس سے شیریں کو اپنا معمول برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔ ایرر : براۓ کرم کم ازکم ایک جواب چننے>براۓ کرم ‘صحیح جواب دکھائیں’ پر کلک کریں>ایرر : براۓ کرم اپنا جواب ٹیکسٹ باکس میں ٹائپ کریں> ذہن میں رکھیں جب تک ممکن ہو معمولات (ایسی چیز جسے ڈیمینشیا کے ساتھ جینے والا شخص ہر روز یا لگ بھگ روزانہ انجام دیتا ہے) برقرار رکھنا اہم ہے۔ اس سے الجھن، اشتعال، بے چین اور بیزاری سے بچنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس سے اس شخص کے وقار کا اعزاز کرنے میں بھی مدد ملتی ہے۔ ایک لمحے کے لیے اس بارے میں سوچیں کہ اگر آپ کے معمولات تبدیل ہوجائیں یا کوئی اور شخص ان کا منصوبہ بنائے تو آپ کو کیسا محسوس ہو سکتا ہے۔