ماڈیول ۵ سبق ۴۔ افسردگی، بےچیننی اور بے پروائی جب ڈیمینشیا کے ساتھ جینے والا شخص افسردہ یا پریشان محسوس کر رہا ہو تو کیسے ردعمل کریں؟ آئیے ایک مثال پر نظر ڈالتے ہیں جمشید کو ڈیمینشیا ہے اور اپنی بہن جمیلا کے ساتھ رہتے ہیں۔ بوہت سے مواقوں پر جمیلا نے جمشید کو اپنی من پسند کرسی پر بیٹھے ہوئے کافی غمزدہ، کندھے اچکائے ہوئے، اور بعض اوقات روتے ہوئے دیکھا ہیں۔ بدقسمتی سے، جو بھی چیز وہ آزماتی ہیں وہ کامیاب نہیں ہوتا ہے۔ اپنی سمجھ بوجھ چیک کریںافسردہ محسوس ہو رہے ڈیمینشیا والے فرد کو جواب دینا۔ جمیلا کو یہ صورتحال کس طرح نمٹانی چاہیے۔ ذیل میں کچھ ایسی چیزیں ہیں جو جمیلا کر یا کہہ سکتی تھی۔ ٹھنڈی سانس بھریں اور دور چلے جائیں، یہ سوچتے ہوئے کہ آپ کچھ بھی نہیں کر سکتے ہے۔ جمشید کے ساتھ بیٹھیں اور تجویز کریں کہ وہ ایک ساتھ ایک خوشگوار سرگرمی کر سکتے ہیں۔آگے بڑھیں اور ان کے بازو یا کندھے پر ہاتھ رکھی اور بولیں “مجھے معلوم ہے کہ آپ کو برا محسوس ہوتا ہے، مجھے بھی ہوتا ہے۔ ہم جس چیز سے گزر رہے ہیں وہ واقعی مشکل ہے۔” کہیں: “مرد روتے اور غمزدہ نہیں ہوتے ہیں، ہم تو ایک ساتھ کافی زیادہ مزے کیا کرتے تھے-“کہیں: “جمشید، آپ کے ساتھ مسئلہ کیا ہے؟ میں آپ کو اس طرح دیکھ کر تھک گئی ہوں۔ بس اٹھیے اور کچھ کیجیے۔”اٹھ کر جمشید کے پاس جائیں اور پرسکون، یقین دہانی والے لہجے میں بولیں، “آپ کس طرح بہتر محسوس کر سکتے ہیں اس بارے میں میرے پاس کچھ آئیڈیاز ہیں، آئیے بات کرتے ہیں۔صحیح جواب دکھائیں ٹھنڈی سانس بھریں اور دور چلے جائیں، یہ سوچتے ہوئے کہ آپ کچھ بھی نہیں کر سکتے ہے۔ یہ فایدہ مند نہیں ہے کیونکہ جمیلا جمشید کو مزید الگ کر رہی ہیں۔ جمشید کے ساتھ بیٹھیں اور تجویز کریں کہ وہ ایک ساتھ ایک خوشگوار سرگرمی کر سکتے ہیں۔ ہیں۔ یہ اچھا جواب ہے کیونکہ یہ جمشید کی توجہ دوسری طرف کر سکتا ہے اور انہیں بہتر احساس دلا سکتا ہے۔ آگے بڑھیں اور ان کے بازو یا کندھے پر ہاتھ رکھی اور بولیں “مجھے معلوم ہے کہ آپ کو برا محسوس ہوتا ہے، مجھے بھی ہوتا ہے۔ ہم جس چیز سے گزر رہے ہیں وہ واقعی مشکل ہے۔” یہ اچھا جواب ہے کیونکہ جو لوگ غم محسوس کر رہے ہوں انہیں زیادہ محبت، تعاون اور سمجھ بوجھ کی ضرورت ہوتی ہے۔ کہیں: “مرد روتے اور غمزدہ نہیں ہوتے ہیں، ہم تو پہل ایک ساتھ کافی زیادہ مزے کیا کرتے تھے” اچھا نہیں ہے کیونکہ اس سے جمشید کو ندزاکر ہو سکتی ہے اور وہ پہلے سے زیادہ غم زدہ محسوس کر سکتے ہیں۔ کہیں: “جمشید، آپ کے ساتھ مسئلہ کیا ہے؟ میں آپ کو اس طرح دیکھ کر تھک گئی ہوں۔ بس اٹھیے اور کچھ کیجیے۔”یہ جواب فایدہ مند نہیں ہے کیونکہ جمشید اس کا کچھ نہیں کر سکتے کہ وہ غمزہ محسوس کر رہے۔ اٹھ کر جمشید کے پاس جائیں اور پرسکون، یقین دہانی والے لہجے میں بولیں، “آپ کس طرح بہتر محسوس کر سکتے ہیں اس بارے میں میرے پاس کچھ آئیڈیاز ہیں، آئیے بات کرتے ہیں۔ یہ اچھا جواب ہے کیونکہ جمشید کو اپنے مزاج میں تبدیلیوں کے لیے مزید مدد درکار ہے۔ ایرر : براۓ کرم کم ازکم ایک جواب چننے>براۓ کرم ‘صحیح جواب دکھائیں’ پر کلک کریں>ایرر : براۓ کرم اپنا جواب ٹیکسٹ باکس میں ٹائپ کریں>